مکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک کی جانب سے بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک کی جانب سے بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔ مختلف ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے معاہدے کو علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
معاہدے کی تقریب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شریک ہوئے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اجتماعی دفاع پر مبنی یہ معاہدہ سیکیورٹی، دفاعی تعاون اور دفاعی صنعت کے مشترکہ منصوبوں کو مزید مضبوط کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ امن اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ معاہدہ پورے خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا ذریعہ بنے۔
Islamic countries warmly welcome #Makkah Joint Defence Agreement between #SaudiArabia , #Pakistan and #Türkiye @PakPMO @ForeignOfficePk @PakinSaudiArab @PakinTurkiye @KSAMOFA @trpresidency @RTErdogan @KSAembassyPK #RadioPakistan #news https://t.co/gKdPDHt7Qc pic.twitter.com/pVQnBnAiV8
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 8, 2026
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے معاہدے پر تہنیتی پیغام میں اسے تینوں ممالک کے امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ خطے کے استحکام کو متاثر کرنے والے مشترکہ خطرات سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے بھی مکہ دفاعی معاہدے کو اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیتے ہوئے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے تینوں ممالک کی قیادت کو دانشمندانہ کاوشوں پر سراہتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور اسلامی ممالک کی یکجہتی کا عکاس ہے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں اور عسکری مہارت کو سراہا۔ بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدہ علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے تینوں ممالک کے ریکارڈ کی عکاسی کرتا ہے۔
یمن کی وزارت خارجہ نے بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے اسے دفاعی تعاون کا اہم اسٹریٹجک سنگِ میل قرار دیا۔ یمنی وزارت خارجہ کے مطابق بحیرۂ احمر، خلیج عدن اور باب المندب کی سلامتی کے تناظر میں یہ معاہدہ یمن کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
صومالیہ کی وزارت دفاع نے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بااعتماد اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرے گا اور علاقائی امن، استحکام اور بین الاقوامی سیکیورٹی کے لیے نمایاں کردار ادا کرے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے کے امن و استحکام کے لیے ہے، اردوان
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے امور کے صدر شیخ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ کے مقدس ماحول میں اس معاہدے کا طے پانا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کو اسلامی دنیا میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
