سکیورٹی فورسز نے ہنگو میں خوارج کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ خوارج کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن حمزہ اکرم شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کیپٹن حمزہ اکرم کا تعلق ضلع نارووال سے تھا، کیپٹن حمزہ اکرم آپریشن کے دوران اپنے دستوں کی فرنٹ سے قیادت کر رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا، ہلاک دہشتگردوں کا تعلق بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تھا۔ ہلاک خوارج سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر متعدد حملوں میں ملوث تھے۔
خیبر پختونخوا ، 2 ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں متعدد دہشتگرد ہلاک ، کئی ٹھکانے تباہ
دوسری جانب بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 3 دہشتگرد ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن رَدُّ الفتنہ کے دوران 12 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا، بلوچستان کے علاقے کمبیلہ اور عاصم آباد میں 68 مربع کلومیٹر علاقہ کلیئر کرا لیا، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرکے فتنہ الہندوستان کے جھنڈے ہٹا دیئے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ عزمِ استحکام کے تحت انسدادِ دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی، غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
گزشتہ روز بھی خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی دو الگ الگ کارروائیوں میں 10 خارجی دہشتگرد ہلاک ہو گئے تھے۔
لکی مروت ، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں خوارج کے ٹھکانے تباہ ، کئی دہشتگرد مارے گئے
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کارروائیاں جنوبی وزیرستان اور دیر میں کی گئیں، جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اعظم ورسک میں فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج کے 8 جبکہ دیر میں کارروائی کے دوران 2 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
