اسلام آباد: وفاقی وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر بجلی کے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے پروٹیکٹڈ صارفین کے موجودہ فارمولے میں تبدیلی کی تجویز پر کام شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق موجودہ نظام میں اگر کوئی پروٹیکٹڈ صارف سال کے کسی ایک ماہ میں 200 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرلے تو اس کا پروٹیکٹڈ اسٹیٹس ختم ہوجاتا ہے، جس کے باعث اسے آئندہ کئی ماہ تک کم یونٹس استعمال کرنے کے باوجود زیادہ ٹیرف ادا کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی تجویز کے تحت 200 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارف کو صرف اسی ماہ اضافی نرخوں کے تحت بل کیا جائے گا، جبکہ اگلے ماہ سے کم کھپت کی صورت میں اسے دوبارہ پروٹیکٹڈ ٹیرف کا فائدہ حاصل ہوسکے گا۔
تجویز پر حتمی منظوری کے بعد پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی کا امکان ہے۔
بجلی ٹرانسفارمر سے متعلق نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ
اس سے قبل وفاقی حکومت نے بجلی کے ٹرانسفارمرز سے متعلق نیا نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ جس میں بجلی چوری کی روک تھام کے لیے بجلی کے ٹرانسفارمرز کو علیحدہ علیحدہ “آن اور آف” کرنے کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ نئے نظام کے بعد پورے فیڈر کو بند کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جس ٹرانسفارمر پر بجلی چوری ہو گی صرف اسی کو بند کیا جاسکے گا۔
ان کا تفصیل بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے نظام کا ریگولیٹری فریم ورک آئندہ سال اپریل یا مئی تک دے دیا جائے گا۔
اویس لغاری نے واضح کیا کہ ملک میں بجلی کی کوئی اضافی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی جبکہ نیٹ میٹرنگ سسٹم میں تبدیلی کے بعد لوگوں نے بیٹریاں لگانا شروع کر دی ہیں۔


