آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کر لی گئی۔
قرارداد پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری یاسین نے ایوان میں پیش کی ، جسے ایوان نے منظور کر لیا ،جس میں آزاد کشمیر میں حالیہ واقعات کے حقائق جاننے کے لیے غیر جانبدار کمیشن قائم کرنے، اسے انکوائری کے لیے مکمل اختیارات اور تمام متعلقہ معلومات تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک مظاہرین احتجاج ختم کریں اور حکومت فوری طور پر حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرے۔
آزاد کشمیر انتخابات: الیکشن کمیشن نے تمام 13 حلقوں کے نتائج جاری کر دیئے
ایوان نے پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حالات خراب کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ پرامن مظاہرین سے اپیل کی گئی کہ وہ مسلح عناصر سے خود کو الگ کریں۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
قرارداد میں آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس فوری بحال کرنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ہر قسم کے تشدد اور انتشار کو مسترد کرنے کا بھی اعادہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ رکن قانون ساز آزاد جموں و کشمیر اسمبلی جاوید اقبال بڈھانوی نے اجلاس کے دوران میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، بے ضابطگیوں اور شہید کارکنان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے قرارداد پیش کی، جسے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا۔
واضح رہے کہ مظفرآباد میں 54 دن کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔ سروس 5 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے بعد معطل کی گئی تھی۔
یہ ہر بار دھاندلی سے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بنتے ہیں ، کشمیر میں ایسا نہیں ہونے دینگے ، بلاول
یہ احتجاجی تحریک خطے میں 2023 سے جاری ہے جس کے 38 میں سے بیشتر مطالبات بشمول آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی، حکومت نے 2024 میں منظور کر دیے تھے۔ بقیہ مطالبات کے لیے اکتوبر 2025 میں حکومت اور کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس پر عملدرآمد نہ ہونے کا الزام لگا کر کمیٹی نے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
پانچ جون کو ہی کمیٹی کے ایک اور ممبر پر مبینہ حملہ ہوا جس کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اسی روز حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خطے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی تھی۔
سروس کی بحالی کا عمل میرپور ڈویژن سے شروع ہوا جہاں 27 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے سے چار روز قبل 23 جولائی کو پوری ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی۔
