ترجمان دفتر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا،دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔آزاد جموں و کشمیر انتخابات جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے ،چند روز کے امن کے باوجود خطے کی سیکیورٹی صورتحال پھر سے غیر یقینی ہے۔
ایران امریکا جنگ بندی برقرار رکھنےاورمذاکرات بحالی کی کوششوں کاخیرمقدم کرتےہیں،پاکستان ،ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے کے فروغ کیلئے کردار جاری رکھے گا،پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ۔
پاکستان فریقین پرزیادہ سے زیادہ تحمل کامظاہرہ کرنے پر زور دیتا ہے،پاکستان نےاسلام آبادمفاہمتی یادداشت پرتکنیکی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا،وزیراعظم شہبازشریف اورسعودی ولی عہد نے علاقائی امن کیلئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ، دونوں رہنماؤں نے بحیرہ احمراورآبنائے ہرمزمیں قانونی تجارت جاری رکھنے پر زوردیا۔
اسلام آبا د مفاہمتی یادداشت بدستورموجود ہے، فریقین اس سے رجوع کرسکتے ہیں،پاکستان اورقطر کا مشترکہ بیان آج بھی مؤثر اوربرقرار ہے۔
بھارت میں اقلیتوں پر مظالم انتہائی تشویشناک ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید بتانا تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈاراور سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان کاٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں علاقائی امن و استحکام کیلئے سفارتکاری جاری رکھنے پر زوردیا گیا، اسحاق ڈاراوراردن کےوزیر خارجہ نےفلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی اور سفارتی رابطوں کےفروغ پر زوردیا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ کویتی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان دوطرفہ اور علاقائی سطح پر اہم پیشرفت ہے ،اردن اوربحرین کےساتھ پاکستان کےقریبی دفاعی تعلقات ہیں،دفاعی معاہدہ ہوا توتفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں پیلٹ گنز کا استعمال کیا، معاملہ اقوام متحدہ کےانسانی حقوق دفترمیں ریکارڈ ہے،بھارت نے پیلٹ گنزکوہجوم کنٹرول کا ذریعہ قرار دیا،پاکستان نےہمیشہ پیلٹ گنز کےاستعمال کی مذمت کی۔
افغان طالبان رجیم نے وعدوں کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا، ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان اوربھارت نےسفارتی عملےکوویزے جاری کیے، سفارتی عملےکی مدت مکمل ہونےپرنئےاہلکاروں کوویزےجاری کرنامعمول ہے۔
افغانستان میں ٹی ٹی پی اوردیگردہشت گردیونیفارم یابیجزاستعمال نہیں کرتے،افغانستان سےدہشت گردگروہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں،افغانستان سےآنےوالی اطلاعات کی زمینی تصدیق مشکل ہے،افغانستان میں متعدد مسلح گروہ سرگرم ہیں،کسی مسلح گروہ کاعلاقےپرقبضہ کرنا حیران کن نہیں۔
