واشنگٹن: امریکا کے ایران پر مسلسل بارہویں رات بھی فضائی حملوں کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری عسکری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق تازہ کارروائی تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔
رواں ماہ امریکی افواج ایران میں فوجی مقامات کو نشانہ بنا چکی ہیں، جبکہ سمندر میں ایران کے خلاف ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے مختلف شہروں میں دھماکوں کی تصدیق کی۔ تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکا اس کے جواب میں ایران کے پلوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔
واضح رہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں جنگی صورتحال بدستور برقرار ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں دونوں جانب سے حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے کر رہا ہے، امریکی وزیر خارجہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے بحران کا خاتمہ چاہتا ہے۔ ایران اس وقت مشکلات کا شکار ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ جبکہ امریکی صدر بھی ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے۔
انہوں نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ایران کا رویہ درست نہیں اور وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔ جبکہ ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں لگتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں امریکی فضائی حملوں میں 53 افراد جاں بحق، 592 زخمی ہوئے، ایرانی وزارت صحت
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران نے ایم او یو پر دستخط کیے تھے لیکن ایران نے اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ لیکن امریکا ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کا خواہاں ہے اور خطے میں جنگ نہیں چاہتا۔
