نیویارک: ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ سے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے والے ممالک سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی صدر دو سال سے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے، جو ناانصافی ہے۔ انہوں نے لبنان اور غزہ پر حملے رکوانے کے لیے اقوام متحدہ سے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا۔
رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکی تنازعات کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ جبکہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آگئی ہے تاہم ترکی سعودی عرب میں جنگ بندی کے لیے فریقین سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
President Erdoğan addresses the 81st United Nations General Assemblyhttps://t.co/2m5ia3eWTP
— Presidency of the Republic of Türkiye (@trpresidency) September 22, 2026
ترک صدر نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر خطے کا اہم مسئلہ ہے، اور کشمیر سمیت تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی مضبوط کرنے کے لیے دفاعی اتحاد قائم کیا ہے۔ جو خطے کے مسائل خود حل کرے گا۔
فلسطین کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ غزہ آج دنیا کا سب سے بڑا قبرستان بن چکا ہے اور انہوں نے گزشتہ 3 سال میں 74 ہزار بھائی بہنوں کو کھو دیا۔ جبکہ غزہ میں شہید ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔
رجب طیب ایردوان نے اسرائیل سے متعلق کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ریاستی دہشت گردی جاری ہے، اور اسرائیل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، جبکہ غزہ کے لوگ ملبے سے اپنے پیاروں کی لاشیں نکال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملوں سے متاثر معصوم بچے دوبارہ اسکول جانے کی کوشش میں ہیں، جبکہ عالمی برادری کو اسرائیلی دہشت گردی روکنا ہو گی۔



