نیویارک: پاکستان اور سعودی عرب نے سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزے کی پابندی ختم کر دی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزاد فیصل بن فرحان نے معاہدے پر دستخط کیے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی وزیر خارجہ اور میرے بھائی شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ مل کر اس معاہدے کو حتمی شکل دینا دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط، سرکاری آمدورفت اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید سہولت ملے گی۔
Pleased to announce that on the sidelines of #UNGA2026,
I signed today with my brother, His Highness Prince Faisal bin Farhan @FaisalbinFarhan, the “Agreement between Islamic Republic of Pakistan and Kingdom of Saudi Arabia on the abolition of visa requirements for holders of… pic.twitter.com/9w1F2z41f5— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) September 21, 2026
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسئلہ کشمیر 8 دھائیوں سے حل طلب ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی کے جموں و کشمیر رابطہ گروپ کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر تقریباً 8 دہائیوں سے حل طلب ہے اور اس کا پائیدار حل طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازع کی بنیادی وجوہات کے حل میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام تقریباً 8 دہائیوں سے عالمی برادری کے اس وعدے کے منتظر ہیں کہ انہیں اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی، سیاسی اور ثقافتی شناخت تبدیل کرنا ہے۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور شہری آزادیوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔


