جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ کیا اور ” درخواست کی کہ مارچ کچھ دن ملتوی کردیں۔”
جماعت اسلامی کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کا 2 روز قبل کراچی سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف شروع ہونے والا ‘سپر لانگ مارچ’ ملتان پہنچ چکا ہے۔
مارچ اتوار کو کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا تھا۔ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کو حکومت کے خلاف تحریک میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
جماعت اسلامی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے حافظ نعیم الرحمان سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے اور وہ وطن واپسی پر ان سے ملاقات کرکے عوام کے لیے مزید بہتر ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے۔
بیان کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم سے کہا کہ جماعت اسلامی اعلان کردہ ریلیف پیکیج کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ “جماعت اسلامی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے لیوی بھتہ کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ لیوی بھتہ کے خاتمے تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔”
وزیر اعظم شہباز شریف کا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ
وزیر اعظم نے امیر جماعت اسلامی سے درخواست کی کہ مارچ کچھ دن ملتوی کردیں۔
عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم
اعلان شدہ ریلیف پیکج کسی صورت قبول نہیں، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے۔ امیر جماعت… pic.twitter.com/NslYkSiIDx
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) September 21, 2026
بیان میں بتایا گیا کہ حافظ نعیم الرحمان نے “وزیراعظم کو کہا ہے کہ آپ کی درخواست پر لانگ مارچ میں چند دن کے وقفے کے بارے میں جماعت کی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ امیر جماعت اسلامی منگل کی صبح یعنی آج مشاورت کے بعد ملتان میں آئندہ کے لائحہ کا اعلان کریں گے۔
