نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کا نیتن یاہو کی گرفتاری سے متعلق موقف سامنے آ گیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک آنے کی صورت میں ان کی ممکنہ گرفتاری کے معاملے پر غور جاری ہے۔
ممدانی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر نیویارک سٹی کے قانونی ماہرین اور متعلقہ حکام سے مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ شہر میں وہی اقدام کیا جائے گا جس کی قانون اجازت دیتا ہے۔ ممدانی نے کہا کہ نیویارک سٹی کے قوانین مجھے جو کچھ کرنے کی اجازت دیں گے، ہم وہی کریں گے، لیکن ہم اس مقصد کے لیے اپنے قوانین خود نہیں بنائیں گے۔
Zohran Mamdani launched a viscous attack on Benjamin Netanyahu, calling him “a war criminal whose place is in The Hague.”
Yet when pressed on whether he would actually order Netanyahu’s arrest if he attends the UN General Assembly, Mamdani avoided giving a direct answer.
He… pic.twitter.com/LVUWQjm4Et
— Iris (@streetwize) July 18, 2026
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ بین الاقوامی قانون، امریکی وفاقی اختیارات اور سفارتی معاملات سے جڑا ہوا ہے۔ قانونی ماہرین نے اس امکان پر سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا نیویارک کا میئر یا مقامی پولیس کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت کے خلاف ایسی کارروائی کر سکتی ہے یا نہیں۔
ممدانی پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئیں تو وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے وارنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی کوشش کریں گے۔ تاہم امریکا ICC کا رکن نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس معاملے کی قانونی حیثیت پر بحث جاری ہے۔
ٹرمپ نے کینیڈا پر نئے ٹیرف کی دھمکی دے دی
نیتن یاہو کے ستمبر میں نیویارک دورے کا تعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ہے، جہاں دنیا بھر کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔ ممدانی کے بیان نے امریکا میں قانونی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
