وفاقی آئینی عدالت نےپیرسوہاوہ مونال ریسٹورنٹ گرانےکافیصلہ کالعدم قراردے دیا۔عدالت نےسی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکم امتناعی بھی ختم کر دیا۔
آئینی عدالت کا کہنا تھا کہ ملکیت کافیصلہ ٹرائل کورٹس عدالتی ریمارکس سےمتاثرہوئےبغیرکریں گی، ٹرائل کورٹس کومقدمات کےجلد فیصلوں کی ہدایت کی گئی ہے، انتظامی معاملات کافیصلہ ریگولیٹری ادارےکرینگے۔
اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ نے مونال اور لا مونٹانا کا قبضہ حاصل کرلیا
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کےفیصلےمیں کئی نکات کومدنظرنہیں رکھا گیا، فیصلےمیں ایسی باتیں بھی لکھ دی گئیں جن کا مقدمےمیں ذکرنہیں تھا۔جذباتی نہیں، قانون کےمطابق فیصلہ کریں گے،فیصلےمیں غیرضروری باتیں شامل نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 21 اگست 2024 کو مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کا حکم دیا تھا۔سابق چیف جسثس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سنایا تھا۔
سپریم کورٹ کا مونال سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار
واضح رہے اسلام آباد کے مونال ریسٹورنٹ کی انتظامیہ نے 9 ستمبر 2024 کو ریسٹورنٹ مکمل بند کرنے کا اعلان کیا تھا،سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے مونال انتظامیہ نے ریسٹورنٹ کے مکمل بند ہونے کی تاریخ کا اعلان کیا۔ پوسٹ میں انتظامیہ نے کسٹمرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب الوداع کہنے کا وقت ہے، جوکہ واقعی بہت مشکل ہے۔
انتظامیہ نے لکھا کہ ‘آپ کے اعتماد کے لیے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق آپ کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کرنے، ہمیں پہچان، تعریف اور آپ کے دل میں جگہ دینے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔’
مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم
سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ‘2006 کے بعد سے مونال کے لیے پاکستان اور اس کے خوبصورت لوگوں کی ایک مثبت انداز میں خدمت اور نمائش کرنا بے حد خوشی کی بات ہے۔ یہ سفر ہم سے وابستہ ٹیم کے لیے کامیابی کی کہانیوں اور جذبات سے بھرا ہوا تھا۔
