امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 2.67 ڈالر (3.51 فیصد) اضافے کے ساتھ 78.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اس کے علاہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت 3 اعشاریہ 65 فیصد بڑھ گئی، جس کے بعد قیمت 74 ڈالر جبکہ مربن خام تیل کی قیمت بھی 74 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
خام تیل کی قیمتیں 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ اس خدشے کے باعث ہوا ہے کہ جاری کشیدگی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق جنگ سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا، اسی لیے اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر عالمی منڈی کی گہری نظر ہے۔
تیل مزید مہنگا، سونے کی عالمی قیمت میں بڑی کمی
واضح رہے کہ امریکی فوج نے ایران پر مزید حملے شروع کردیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
