بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر کے قریب بھارت سے اپنے وطن واپس جائیں گی حالانکہ “وہ واپسی پر مجھے گرفتار کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ قتل بھی کر سکتے ہیں۔”
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں 78 سالہ شیخ حسینہ نے کہا کہ گرفتاری اور “قتل” کے خدشات کے باجود “مجھے اپنے ملک جانا ہی ہو گا۔”
“میری جماعت عوامی لیگ کے رہنما اور کارکن شدید دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں، اگر مرنا ہی ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اپنی دھرتی پر موت کو گلے لگاؤں جہاں میرے والدین دفن ہیں، اور جہاں ان کا خون بہایا گیا تھا۔”
شیخ حسینہ 2024 میں ملک گیر احتجاج کے بعد ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں، جبکہ بعد ازاں بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے انہیں احتجاجی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کرانے کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔
ان کی ممکنہ واپسی سے بنگلہ دیش میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری بھی آ سکتی ہے، جو ان کی جلاوطنی کے بعد متاثر ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین میں 20 سال بعد انتخابات کا اعلان، 28 نومبر کی تاریخ مقرر
شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت سے مشاورت کے بغیر واپس جانے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ڈھاکا میں حکام “مجھے واپس لانا چاہتے ہیں، وہ میری واپسی کے لیے بار بار بھارتی حکومت کو خط لکھ رہے ہیں، [لیکن] میں خود جاؤں گی۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ “میری جماعت کے تقریباً تمام رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں، اور ان میں سے کئی مفرور ہیں، تو میں نے ان سے کہا کہ اس بار میں اپنے گھر واپس جا رہی ہوں، اور ایک دن تم سب کو بھی واپس چلے جانا چاہیے۔ ہم سب مل کر عدالت میں سرینڈر کریں گے۔”
واضح رہے کہ شیخ حسینہ بنگلہ دیش کی طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی رہنما رہی ہیں، تاہم ان کے دور حکومت میں اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں.
انہوں نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف پر یقین رکھتی ہیں اور عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کیسی رہی۔
“کوئی بھی حکومت غلطی سے بالا نہیں ہے، جب بھی کوئی حکومت لمبے عرصے تک اقتدار میں رہتی ہے تو غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن غلط اور صحیح کو پرکھنا اور حکومتوں کے اچھے اور برے کو تولنا عوام کا اختیار اور کام ہے، میں بھی اپنا فیصلہ عوام پر چھوڑتی ہوں۔”
