قطر نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے لندن میں چیتھم ہاؤس میں منعقدہ گول میز کانفرنس کے دوران کہا کہ قطر خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکراتی عمل کا حامی ہے۔
Today in London, I participated in a roundtable discussion and a session at the @ChathamHouse. #LondonConference 2026 on the new geopolitical realities of the Middle East.
I thank @ChathamHouse for convening this important dialogue. I reiterated Qatar’s commitment to diplomacy &… pic.twitter.com/4xAW17n81c— د. ماجد محمد الأنصاري Dr. Majed Al Ansari (@majedalansari) July 9, 2026
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران پر آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے الزامات لگا کر دوبارہ حملے شروع کیے گئے جس کے بعد خطے میں کشیدگی پھر سے بڑھ گئی ہے۔ قطر نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے ایک قطری ایل این جی بردار جہاز سمیت تین ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
قطری حکام کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد سمندری راستوں پر آمد و رفت بحال ہونا شروع ہوئی تھی۔
قطر، جو پاکستان کیساتھ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے تہران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچائیں یا بین الاقوامی بحری راستوں کے لیے خطرہ بنیں۔
