ورلڈ بینک نے پاکستان میں بجلی کے ترسیلی نظام کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے 37 کروڑ 59 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔
ورلڈ بینک کے اعلامیے کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک کے بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک کو مستحکم بنانا، بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانا اور بار بار ہونے والے بریک ڈاؤن میں کمی لانا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو درپیش توانائی کے چیلنجز ملکی معاشی استحکام سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، جبکہ کمزور ترسیلی نظام کی وجہ سے کروڑوں پاکستانی متاثر ہو رہے ہیں۔
ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار کی موجودہ صلاحیت سے مکمل فائدہ نہ اٹھائے جانے کے باعث عوام کو لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
منصوبے کے تحت قومی ترسیلی گرڈ کو مضبوط بنانے کے لیے جدید آلات نصب کیے جائیں گے، جبکہ اہم سب اسٹیشنز پر بجلی کے بہاؤ اور نظام کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ بجلی کی ترسیل زیادہ مؤثر اور مستحکم ہو سکے۔

اعلامیے کے مطابق اس منصوبے سے گھروں، کاروباری مراکز اور صنعتوں تک زیادہ مقدار میں ماحول دوست بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ بجلی کی مجموعی لاگت میں کمی اور قومی گرڈ میں قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ انضمام میں بھی مدد ملے گی۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے پاکستان کے بجلی کے ترسیلی نظام کی استعداد میں اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ ملکی معیشت کو بھی طویل المدتی بنیادوں پر فائدہ پہنچے گا۔
