فلسطین کی تیسری قانون ساز کونسل کے انتخاب کے لیے 20 سال بعد انتخابات کا اعلان ہوا ہے جسکے مطابق ووٹنگ 28 نومبر کو ہو گی۔
الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے جاری کردہ صدارتی حکم نامے کے مطابق یہ انتخابات مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ سمیت تمام فلسطینی علاقوں میں کرانے کا منصوبہ ہے۔
فلسطینی علاقوں میں آخری قانون ساز انتخابات 2006 میں ہوئے تھے، جس میں حماس نے غیر متوقع کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد فتح اور حماس کے درمیان سیاسی اختلافات بڑھ گئے، جو 2007 میں غزہ پر حماس کے کنٹرول کی صورت میں سامنے آئے۔
BREAKING: Palestinian President Mahmoud Abbas issued a presidential decree setting Saturday, November 28, 2026, as the date for the legislative elections.
The presidential decree calls upon the Palestinian people in East Jerusalem, the West Bank, and the Gaza Strip to… pic.twitter.com/loDjn3jdwq
— Ihab Hassan (@IhabHassane) July 9, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ اعلان بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے، جہاں فرانس، سعودی عرب سمیت کئی ممالک فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات اور شفافیت کے خواہاں ہیں تاکہ مالی و سفارتی تعاون جاری رکھا جا سکے۔
تاہم انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کئی بڑے چیلنجز بھی موجود ہیں، جن میں اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم میں ووٹنگ روکنا ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ 2021 میں بھی اسی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔
دوسری جانب غزہ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہے، جس کے باعث انتخابی عمل کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے۔
واضح رہے کہ محمود عباس 2005 میں چار سالہ مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے لیکن گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے صدارتی حکم ناموں کے ذریعے حکومت کر رہے ہیں، جس پر انہیں اندرون و بیرون ملک تنقید کا سامنا ہے۔
فلسطینی صدر نے حال ہی میں آئندہ سال صدارتی انتخابات کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ خود دوبارہ امیدوار ہوں گے یا نہیں۔
