پشاور، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ شفافیت کے دعوے کرنے والے عوام کو بتائیں کہ مراعات سے متعلق بل کس طرح منظور ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت نے اپنے لیے تو مراعات حاصل کرلیں لیکن عوام کو آخر کیا ریلیف دیا گیا؟
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبے کو حکمرانوں کی مراعات نہیں بلکہ مؤثر طرز حکمرانی، امن و امان اور عوامی خدمت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی شعبے شدید زبوں حالی کا شکار ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا حساب مانگنے والے آج خود مراعات حاصل کر رہے ہیں جو ان کے دعوؤں کے برعکس ہے۔
انہوں نے آزادیٔ اظہار پر قدغن لگانے کی کوششوں کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق معاملات چلائے جائیں۔
پشاور میں آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے، 20 کلو کا تھیلا 2900 روپے سے تجاوز کر گیا
گورنر نے واضح کیا کہ آئین کے مطابق ہر منظور شدہ قانون گورنر کے پاس بھیجا جاتا ہے اور وہ متعدد صوبائی بلوں پر آئینی اعتراضات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے قانون سازی میں شفافیت اور آئینی اصولوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت اپنی ترجیحات کا رخ عوامی مسائل کے حل، بہتر طرز حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی جانب موڑے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔
