لندن: دنیا کے رہائش کے لیے بہترین شہروں میں پاکستان کا شہر بھی شامل ہے۔
اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) نے سال 2026 کے لیے دنیا کے قابلِ رہائش شہروں کی سالانہ درجہ بندی جاری کر دی، جس میں ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن مسلسل دوسرے سال دنیا کا سب سے قابلِ رہائش شہر قرار پایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 173 شہروں کا تعلیم، سیاسی و سماجی استحکام، صحت، انفراسٹرکچر، ثقافت اور ماحول سمیت مختلف شعبوں کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا، کوپن ہیگن نے استحکام، انفراسٹرکچر اور تعلیم کے شعبوں میں مکمل نمبر حاصل کیے، جبکہ بہترین عوامی خدمات، مضبوط انفراسٹرکچر اور اعلیٰ معیارِ زندگی نے اسے پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں مدد دی۔
آسٹریا کا دارالحکومت ویانا دوسرے نمبر پر رہا جبکہ آسٹریلیا کا میلبورن ایک درجہ ترقی کے بعد تیسرے، سڈنی چوتھے اور سوئٹزرلینڈ کا زیورخ پانچویں نمبر پر رہا، جنیوا چھٹے، جاپان کا اوساکا ساتویں، آسٹریلیا کا ایڈیلیڈ آٹھویں، کینیڈا کا وینکوور نویں اور جاپان کا ٹوکیو دسویں نمبر پر رہا۔
Our sister company scored cities across the world on five categories: health care, culture and environment, education, infrastructure and stability. Register for free to find out where the most liveable city is this year https://t.co/MwnsuXN6ve pic.twitter.com/xvcozETHgX
— The Economist (@TheEconomist) July 7, 2026
امریکا میں ہونولولو اگرچہ دو درجے تنزلی کے باوجود 25ویں نمبر پر رہ کر ملک کا سب سے زیادہ قابلِ رہائش شہر قرار پایا جبکہ نیویارک جرائم میں کمی اور استحکام کی صورتحال بہتر ہونے کے باعث تین درجے ترقی کرکے 66ویں نمبر پر آگیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی یورپ اب بھی رہائش کے لحاظ سے دنیا کا بہترین خطہ ہے تاہم اس کا اوسط اسکور گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کم ہوا جبکہ ایشیا کا اوسط اسکور صحت کے شعبے میں بہتری کے باعث بڑھا ہے۔ چین کے متعدد شہروں، خصوصاً فوجو، کی درجہ بندی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جس کی وجہ صحت کے نظام میں سرمایہ کاری اور نئے لانگ ٹرم کیئر انشورنس پروگرام کو قرار دیا گیا۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات خلیجی شہروں کی درجہ بندی پر بھی پڑے، جہاں استحکام کے اشاریے متاثر ہوئے، عمان کا دارالحکومت مسقط 14 درجے تنزلی کے بعد 123ویں اور کویت سٹی 12 درجے نیچے آکر 105ویں نمبر پر آگیا۔
برطانیہ میں گزشتہ سال کے فسادات کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے، جہاں مانچسٹر 52ویں نمبر پر ملک کا سب سے اعلیٰ درجہ رکھنے والا شہر قرار پایا جبکہ لندن 54ویں اور ایڈنبرا 64ویں نمبر پر رہا۔
ایران کا تہران جنگ کے اثرات کے باعث 164ویں اور یوکرین کا کیف 166ویں نمبر پر چلا گیا۔
دنیا کا وہ ملک جہاں ریلوے ٹریک بن گئے سولر پاور پلانٹ، حیران کن تجربہ کامیاب
اسی طرح رہائش کے لیے بہترین شہروں کی فہرست میں دبئی 79، ابوظہبی 76 ویں نمبر پر ہے جب کہ کراچی کا 170 واں نمبر ہے جب کہ شام کا دارالحکومت دمشق اس فہرست میں سب سے آخری نمبر پر ہے اور دمشق اب بھی دنیا کا سب سے کم قابلِ رہائش شہر قرار پایا۔
اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر قابلِ رہائش ہونے کا مجموعی اوسط اسکور گزشتہ سال کے برابر رہا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام میں کمی اور ایشیا میں صحت کے شعبے میں بہتری نے ایک دوسرے کا توازن برقرار رکھا، رپورٹ کے مطابق اب دنیا کے ٹاپ 20 قابلِ رہائش شہروں میں ایشیا کے 9 اور یورپ کے 7 شہر شامل ہیں۔
