تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز نہیں ہو گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاکھوں باوقار ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں، جو قومی اتحاد اور استقامت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام اور نہ ہی ہماری بہادر مسلح افواج کسی قسم کی دھمکی سے مرعوب ہوں گی۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے دستخط اور معاہدے کا احترام کرے اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے۔
عباس عراقچی کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر کام مکمل کر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کا جسد خاکی آج عراق لے جایا جائے گا، تدفین 9 جولائی کو ہو گی
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک گھنٹے میں ایران کے پل تباہ کر سکتے ہیں، ان کی توانائی کی فراہمی بند کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اس وقت پیسہ بھی نہیں ہے اور ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی۔
