تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کا جسد خاکی آج عراق لے جایا جائے گا۔ جبکہ تدفین 9 جولائی کو مشہد میں ہو گی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی آج قم سے عراق روانہ کیا جائے گا۔ عراق میں آج اور کل نجف وکربلا میں تعزیتی اجتماعات اور جلوسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو 9 جولائی کو مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ جبکہ شہید خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کے لیے آخری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ایران میں کئی روز سے جاری الوداعی اجتماعات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ یہ اجتماعات الوداع نہیں بلکہ شہید کے راستے پر چلنے کے عزم کی تجدید ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے قم منتقل کی گئی۔ جہاں ایک بار پھر ان کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت عراق منتقل کی جائے گا۔
اس سے قبل شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تہران میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں غیرمعمولی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ ایرانی میڈیا نے جنازے میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا۔ جبکہ بعض روسی ذرائع نے شرکا کی تعداد ایک کروڑ سے زائد بتائی۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جنازے کے جلوس کو حالیہ برسوں کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع جنگ کے بعد قومی اتحاد اور مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آیا۔
ماہرین کے مطابق جنازے میں عوام کی بڑی تعداد نے یہ تاثر دیا کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ایران داخلی طور پر متحد ہے۔ ان کے بقول یہی یکجہتی مستقبل میں ایران کی سفارتی اور مذاکراتی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہید آیت اللہ خامنہ ای کے قاتل اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے ، ایرانی آرمی چیف
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ خطے میں ایران کی اسٹریٹجک اہمیت، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے، مستقبل میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ جوہری مذاکرات میں اہم عنصر بن سکتی ہے۔
