سعودی عرب نے ایشیائی ممالک کے لیے خام تیل کی سرکاری فروختی قیمت (Official Selling Price – OSP) میں بڑا اضافہ نہیں بلکہ ریکارڈ کمی کرتے ہوئے اگست کی سپلائی کے لیے 11 ڈالر فی بیرل تک قیمت کم کر دی ہے، جو گزشتہ 26 برسوں کی سب سے بڑی کمی قرار دی جا رہی ہے۔
اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی رسد میں اضافہ، اوپیک پلس کی پیداوار بڑھانے کی پالیسی اور ایشیا، خصوصاً چین، میں طلب نسبتاً کمزور ہونے کے باعث سعودی عرب اپنی مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی آرامکو نے اپنے اہم عرب لائٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی خریداروں کے لیے علاقائی بینچ مارک کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل رعایت پر مقرر کر دی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ قیمت پریمیم پر فروخت کی جا رہی تھی۔ یہ کمی مارکیٹ کے اندازوں سے بھی زیادہ ہے۔
عالمی مارکیٹ میں ہلچل ، تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی درآمد کنندگان کو نسبتاً سستا خام تیل دستیاب ہوگا، جبکہ عالمی تیل مارکیٹ میں مسابقت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب اوپیک پلس نے اگست سے یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی منظوری بھی دی ہے، جس سے عالمی منڈی میں رسد مزید بڑھنے اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
سعودی فیصلے سے ایشیائی معیشتوں کو بڑا ریلیف ملنے کی امید
سعودی عرب کی جانب سے ایشیائی خریداروں کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد چین، بھارت، پاکستان، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو خاطر خواہ ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو آئندہ مہینوں میں ایندھن کی درآمد پر آنے والی لاگت میں کمی، زرِمبادلہ پر دباؤ میں کمی اور مہنگائی کی رفتار سست ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مزید 5 فیصد گر گئی
اس وقت عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 72 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 69 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جو ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران ریکارڈ کیے گئے بلند ترین نرخوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم سطح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کی درآمدات پر انحصار کرنے والی ایشیائی معیشتیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
