پاکستان کے معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنی ذاتی زندگی، قانونی مقدمات، سوشل میڈیا تنازعات، لندن سے پاکستان روانگی اور مالی کامیابی سے متعلق پہلی بار کھل کر گفتگو کی ہے۔
رجب بٹ کا کہنا ہے کہ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور آج جو کچھ بھی حاصل کیا ہے وہ مسلسل محنت، وقت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پر مختلف شہروں میں مقدمات درج کیے گئے لیکن ان مقدمات کا مقصد صرف شہرت حاصل کرنا تھا۔ ان کے بقول بعض افراد صرف ان کا نام استعمال کرکے میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے، تاہم عدالتوں میں کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔
معروف یوٹیوبر رجب بٹ کیخلاف ایک اور مقدمہ درج
لندن سے پاکستان واپسی کے حوالے سے رجب بٹ نے بتایا کہ انہیں معلوم تھا کہ واپسی پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے تمام قانونی دستاویزات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوفزدہ نہیں تھے بلکہ خوش تھے کہ اپنے وطن واپس آ رہے ہیں، جہاں اگلے ہی روز عدالت میں پیش ہو کر قانونی کارروائی مکمل کی۔
پوڈکاسٹ میں انہوں نے شیر رکھنے کے معاملے پر بھی وضاحت دی۔ رجب بٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے لائسنس حاصل کرنے کے لیے معلومات لینا شروع ہی کی تھیں کہ متعلقہ اداروں نے کارروائی کر دی۔ ان کے مطابق بعد میں اسی شیر کو دیکھنے آنے والے افراد اور سیلفیاں بنانے والوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔
رجب بٹ نے اپنی والدہ کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں جو بھی مقام ملا، اس میں والدہ کی دعاؤں اور تربیت کا سب سے بڑا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی ڈانٹ، نصیحت اور محبت انسان کو درست راستے پر رکھتی ہے اور ہر شخص کو اپنے والدین کی قدر کرنی چاہیے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا رجٹ بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم
دولت اور لگژری طرزِ زندگی سے متعلق سوال پر رجب بٹ نے کہا کہ مہنگی گھڑیاں اور زیورات ان کے بچپن کے خواب تھے، جو اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے بعد پورے کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی “ڈان” یا بااثر شخصیت نہیں بلکہ صرف ایک یوٹیوبر اور انفلوئنسر ہیں۔
انہوں نے اپنے خاندان اور بچوں کے مستقبل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنی کمائی کا بڑا حصہ اہلِ خانہ پر خرچ کرتے ہیں۔ یوٹیوب آمدن کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے مسکراتے ہوئے خود کو “بلینیئر” قرار دیا۔
رجب بٹ نے کہا کہ میری مجموعی دولت 100 کروڑ پاکستانی روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور میں اس کامیابی پر اللہ کا شکر گزار ہوں۔یہ مقام راتوں رات نہیں ملا بلکہ اس کے پیچھے 12 سال کی مسلسل محنت، لگن اور جدوجہد ہے۔
رجب بٹ نے نوجوانوں اور والدین کے لیے بھی ایک اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر بچے شادی کے لیے تیار ہوں تو انہیں جذباتی دباؤ یا بلیک میلنگ کے ذریعے فیصلے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ ان کی رائے اور خوشی کو بھی اہمیت دی جائے۔
لاریب ملک نے رجب بٹ کا پیغام سوشل میڈیا پر لیک کردیا، نیا تنازع کھڑا
گفتگو کے اختتام پر رجب بٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی مثبت مواد تخلیق کرتے رہیں گے اور تمام قانونی معاملات کا سامنا قانون کے مطابق کرتے رہیں گے۔
