لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیادت کرنا ان کے لیے ہمیشہ ایک اعزاز رہا ہے۔ اور اس بار وہ بہتر منصوبہ بندی، مثبت سوچ اور زیادہ پختگی کے ساتھ ٹیم کی قیادت کریں گے۔
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے سابق ٹیسٹ کرکٹر سلمان بٹ کے پروگرام “اسٹریٹ ڈرائیو ود سلمان بٹ” کی دوسری قسط میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ ایک کپتان کی سوچ میں پختگی آتی ہے۔ اور وہ اپنے فیصلوں سے مسلسل سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بطور کپتان ان کی اولین ترجیح کھلاڑیوں، خصوصاً نوجوان کرکٹرز، کی بھرپور حمایت کرنا ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں سے مسلسل بات چیت کرتے ہیں تاکہ ان کا دباؤ کم ہو۔ اور وہ اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔ ان کی توجہ ہمیشہ ڈسپلن، فٹنس اور بہترین کارکردگی پر ہوتی ہے اور ان تینوں شعبوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
قومی ٹیم کے کپتقان نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں منعقد ہونے والے ریڈ بال کیمپ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل کنڈیشنز میں ٹریننگ سے کھلاڑی ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بنتے ہیں۔ کیمپ میں صرف مہارتوں پر ہی نہیں بلکہ میچ کے دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی خصوصی کام کیا گیا۔
بابر اعظم نے آئندہ ویسٹ انڈیز کے دورے کو چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کی ہے اور انہیں امید ہے کہ کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ بھی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔
اپنی بیٹنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ ٹیم کی ضرورت کو سامنے رکھ کر کھیلتے ہیں۔ اگر صورتحال جارحانہ انداز کی متقاضی ہو تو وہ اسی انداز میں بیٹنگ کرتے ہیں جب کہ ضرورت پڑنے پر دفاعی حکمت عملی بھی اختیار کرتے ہیں۔
بابر اعظم نے کہا کہ وہ مثبت تنقید کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور مفید مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہی عمل ایک کھلاڑی کو مزید بہتر بناتا ہے۔
نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنے پیغام میں بابر اعظم نے کہا کہ وہ خود پر یقین رکھیں، محنت جاری رکھیں اور مستقل مزاجی کا دامن نہ چھوڑیں، کیونکہ کامیابی کے نتائج ہمیشہ فوری نہیں ملتے۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم کی موت کی افواہیں بے بنیاد ہیں ، اہلیہ شنیرا اکرم
آخر میں بابر اعظم نے کہا کہ وہ اور پوری ٹیم شائقین کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور پاکستان کے لیے بہترین نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
