ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے شرکا نے معاہدے کے بارے میں کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ چھ دہائیوں سے نافذ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ بھارتی قیادت کی وہ سوچ ہے جو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 22 ایرانی ملاحوں کے عملے کی رہائی ممکن ہوئی، جبکہ پاکستان کی وساطت سے اپنے وطن واپس جانے والے ایرانی شہریوں کی مجموعی تعداد 70 ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن “غضب للحق” پوری قوت سے جاری ہے اور پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 29 جون کو افغان ناظم الامور کو ڈیمارش کیا گیا تھا، جبکہ دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ایک افغان شہری کو زندہ گرفتار کیے جانے کے بعد بھی افغان حکام کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اب “اولیو ڈپلومیسی” کا آغاز بھی کرے گا۔ زیتون کی کاشت میں نمایاں کامیابی اور بہتر کارکردگی کے باعث پاکستان کو انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت حاصل ہوئی ہے، جو اس شعبے میں ملک کی پیش رفت کا اعتراف ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان نے بھارتی جیلوں میں قید اپنے 750 شہریوں کی فہرست بھارت کے حوالے کر دی ہے اور حکومت ان تمام پاکستانی شہریوں کی رہائی اور باعزت وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاک بھارت وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خط لکھنے والی شخصیات نے یہ اقدام اپنی ذاتی حیثیت میں کیا ہے۔
وزیراعظم کا ایران اور ترکیہ کا دورہ
اس کے علاوہ دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ تہران میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نمازجنازہ میں شرکت کرنے کے علاوہ دونوں ممالک کی قیادت سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورۂ ایران کے دوران پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازجنازہ میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول بھی جائیں گے، جہاں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مفاہمتی یادداشت (آئی ایم او یو) کی روشنی میں امریکا۔ایران معاہدے کے حوالے سے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں فریق بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ ترجمان کے مطابق فریقین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد مذاکرات کا اگلا مرحلہ آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مسائل کے پرامن حل کی راہ ہموار کریں گی۔
