بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے کہا ہے کہ میرے بچے عید کی طرح دیوالی اور کرسمس بھی منائیں گے۔
اداکار سیف علی خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں ان کے بچوں کی پرورش ایسے ماحول میں ہو جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا احترام سکھایا جائے، اسی لیے ان کے بچے عید کے ساتھ ساتھ دیوالی اور کرسمس کی خوشیاں بھی منائیں گے۔
لندن میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سیف علی خان نے کہا کہ ان کے نزدیک مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو مختلف تہواروں سے روشناس کرانے کا مقصد انہیں محبت، برداشت اور ایک دوسرے کے عقائد کے احترام کا درس دینا ہے۔
اداکار نے کہا کہ ان کے گھر میں عید، دیوالی اور کرسمس سمیت مختلف تہوار جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ تہوار خوشیاں بانٹنے اور خاندان کو قریب لانے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔
سیف علی خان نے کہا کہ انہوں نے ایسے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی جہاں مختلف مذاہب، ان کی روایات اور تہواروں کا احترام سکھایا جاتا تھا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ ان کے اسکول میں ہر روز کا آغاز چرچ میں اجتماعی عبادت سے ہوتا تھا۔
ایک بار انہوں نے یہ کہہ کر اس میں شرکت سے بچنے کی کوشش کی کہ ان کا مذہب مختلف ہے تاہم اسکول انتظامیہ نے ان کے لیے ایک مولوی صاحب کا انتظام کر دیا تاکہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عبادت کر سکیں۔ سیف علی خان نے کہا کہ یوں وہ اس ذمہ داری سے بھی نہ بچ سکے اور اسی ماحول نے انہیں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے احترام کا درس دیا۔
واضح رہے کہ سیف علی خان کی ذاتی زندگی بھی ہمیشہ خبروں کی زینت رہی ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اداکاراؤں سے شادیاں کیں۔
سیف علی خان نے 1991 میں بالی ووڈ اداکارہ امریتا سنگھ سے شادی کی جو عمر میں ان سے 13 سال بڑی تھیں۔ اس شادی سے ان کے ہاں دو بچے، سارہ علی خان اور ابراہیم علی خان پیدا ہوئے تاہم 2004 میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔
نورا فتیحی نےورلڈ کپ کے رنگ میں رنگا اپنا نیا گانا ’چیمپئنز‘ ریلیز کردیا
بعد ازاں 2012 میں سیف علی خان نے بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور سے شادی کی اور ان کے دو بیٹے، تیمور علی خان اور جہانگیر (جے) علی خان ہیں۔ سیف اور کرینہ متعدد مواقع پر اپنے بچوں کی ایسی تربیت پر زور دیتے رہے ہیں جس میں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کا احترام شامل ہو۔
سیف علی خان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ مل رہی ہے، جہاں متعدد صارفین نے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے ان کے مؤقف کو سراہا ہے جبکہ بعض صارفین نے اس پر مختلف آراء کا اظہار بھی کیا۔
