برلن: شمالی جرمنی کے شہر اسٹیڈ میں ایک یوتھ ویلفیئر (نوجوانوں کی فلاحی) مرکز میں ہونے والی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ پولیس نے مشتبہ حملہ آور سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ بندرگاہی شہر ہیمبرگ کے قریب واقع اسٹیڈ میں پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ ایک یوتھ ویلفیئر مرکز میں ہوئی، تاہم حملے کا مقصد یا محرک فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔
جرمن پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ زیر حراست دوسرے شخص کا کردار بھی تاحال واضح نہیں، تاہم فی الحال کسی اور مشتبہ شخص کی تلاش نہیں کی جا رہی۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد بالغ تھے، جبکہ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فرانزک ماہرین کی مدد سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے، سرخ اینٹوں سے بنے مکانات والی گلی کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ سفید حفاظتی لباس میں ملبوس فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔
قطر نے بحری سفر اور تمام سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دیں
ابتدائی طور پر پولیس نے شہریوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی، تاہم بعد میں اعلان کیا کہ عام شہریوں کو اب کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک مرد اور ایک خاتون واقعے کے بعد کار میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پولیس نے انہیں راستے میں روک کر حراست میں لے لیا۔
جرمنی میں اجتماعی فائرنگ کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں ایسے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں، 2023 میں ہیمبرگ میں ایک مسلح شخص نے یہوواہ وٹنسز کے عبادت خانے میں چھ افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی تھی، جبکہ 2016 میں میونخ میں ایک حملہ آور نے فائرنگ کر کے کم از کم نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
