وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی مشہور ادویات، خصوصاً جی ایل پی-1 (GLP-1) ریسیپٹر ایگونسٹس، سے بال جھڑنے کا خطرہ معمولی حد تک بڑھ سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ خطرہ اب بھی کم ہے اور مریضوں کو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
یہ نتائج حال ہی میں شائع ہونے والی متعدد تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئے ہیں، جن میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے محققین کی بی ایم جے (BMJ) میں شائع ہونے والی تحقیق بھی شامل ہے۔
سر سے باربار فٹبال مارنا دماغ کی کئی بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے، تحقیق
تحقیق کے مطابق سیماگلوٹائڈ (Semaglutide) اور ٹیرزیپیٹائڈ (Tirzepatide) جیسی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں بال جھڑنے (Alopecia) کے امکانات دیگر ذیابیطس کی ادویات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 37 سے 68 فیصد زیادہ دیکھے گئے۔ تاہم حقیقی تعداد کے لحاظ سے یہ فرق بہت محدود رہا، جہاں ہر ایک ہزار مریضوں میں سالانہ تقریباً 3 سے 9 افراد متاثر ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بال جھڑنے کی وجہ صرف دوا نہیں ہوسکتی بلکہ تیزی سے وزن میں کمی، غذائیت کی کمی، پروٹین اور ضروری وٹامنز کی کم مقدار، ہارمونل تبدیلیاں اور دیگر طبی عوامل بھی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر مریض میں اس کی وجہ مختلف ہو سکتی ہے۔
ٹائپ ون ذیابیطس مریضوں کیلئے ڈیوائس متعارف
ایک الگ میٹا اینالیسز میں 9 مطالعات اور 4 ہزار سے زائد مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس میں بھی جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں بال جھڑنے کے خطرے میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی۔ محققین نے سفارش کی کہ ان ادویات کے استعمال کے دوران مریضوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور اگر بال غیر معمولی طور پر جھڑنا شروع ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ ان ادویات کے فوائد، خصوصاً موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج میں، اب بھی ان کے ممکنہ نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق مریض کسی بھی صورت ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں، کیونکہ زیادہ تر صورتوں میں بال جھڑنے کا مسئلہ عارضی ہو سکتا ہے اور مناسب غذائیت یا علاج سے بہتر بھی ہو جاتا ہے۔
