سوئٹزرلینڈ کے پرفضا ریزورٹ برگن اسٹاک میں پاکستان، قطر، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات عالمی سفارت کاری میں انتہائی اہم سنگ میل ثابت ہوئے ہیں۔ یہ تفصیلی رپورٹ ان چوبیس گھنٹوں کا آنکھوں دیکھا حال اور اندرونی کہانیاں پیش کرتی ہے جن کے نتیجے میں بالآخر پاکستان ایک بڑی سفارتی کامیابی سے ہمکنار ہوا اور دنیا کو یہ پیغام ملا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہے۔

سفر کا آغاز، منسوخی کی افواہیں اور محسن نقوی کا اہم پیغام
اس کہانی کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب یہ اطلاع ملی کہ سوئٹزرلینڈ کے اندر ایران اور امریکا کے درمیان اہم معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے ہیں۔ یہ خبر ملتے ہی فوری طور پر سوئٹزرلینڈ کے لیے روانگی ہوئی۔ زیورخ اترتے ہی بتایا گیا کہ ایونٹ تو منسوخ ہو گیا ہے۔ اب واپسی کی ٹکٹس چونکہ تین چار دن کے وقفے کے ساتھ بک تھیں، اس لیے وہاں رکنا اور انتظار کرنا ہی مناسب سمجھا گیا۔
جب انتظار کا وقت گزر رہا تھا اور وہ آخری دن آ پہنچا جس دن واپسی کی فلائٹ تھی، تو اس سے ایک دن پہلے یہ معلوم ہوا کہ محسن نقوی ایرانیوں کو منانے کے لیے خود ایران گئے ہوئے ہیں۔ ان سے رابطہ کرکے پوچھا گیا کہ اس صورتحال پر کیا رائے ہے؟ کیا سوئٹزرلینڈ میں مزید رکنا چاہیے یا واپس نکل جانا چاہیے؟ تو انہوں نے ایک انتہائی مختصر مگر فیصلہ کن میسیج کیا کہ سوئٹزرلینڈ سے مت جاؤ، مذاکرات اب باقاعدہ طور پر ہونے جا رہے ہیں اور پاکستان اور قطر اس پورے معاملے کے اندر ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ ساتھ ہی یہ شیڈول بھی سامنے آیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر خود سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ آئیں۔

برگن اسٹاک ریزورٹ آمد اور میڈیا سینٹر کے انتظامات
سوئٹزرلینڈ کے وقت کے مطابق صبح نو سے دس بجے کے درمیان یہ گائیڈ لائن دے دی گئی تھی کہ ہر صورت دس بجے سے پہلے پہلے “برگن اسٹاک ریزورٹ”پہنچنا ہو گا، کیونکہ اگر اس وقت کے بعد پہنچتے تو سکیورٹی وجوہات کی بناء پر اس پورے علاقے کو سیل کر دیا جانا تھا اور پھر وہاں جانا ممکن نہیں تھا ۔
ہال کا منظرنامہ، وفود کی آمد
اس دوران یہ پیش رفت ہوئی کہ ایرانی وفد نے پاکستانی وفد سے ون آن ون ملاقات کی درخواست کی۔ ایران کے باقر قالیباف اور عباس عراقچی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے خصوصی ملاقات کی ،وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وہاں موجود صحافیوں کے ساتھ انتہائی خوشگوار ماحول میں سلام دعا کی ۔ اس کے بعد امریکی وفد ہال میں داخل ہوا جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، اور ان کے ہمراہ جیرڈ کشنر اور اسٹیون وٹکوف بھی موجود تھے۔ ان کی آمد پر بھی بڑے اچھے طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ سلام دعا ہوئی۔اس کے بعد قطری وزیر اعظم کی آمد ہوئی، انہوں نے بھی ہال میں موجود تمام رہنماؤں سے ملاقات کی۔

ایرانی وفد کی ناراضی کی وجوہات اور ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹ
اب ہال میں سب کو انتظار تھا کہ ایرانی وفد کب داخل ہوتا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہونا تھا جب امریکا، ایران ، پاکستان اور قطر کے وفود ایک ہی جگہ اور ایک ہی فریم میں کھڑے نظر آتے۔ لیکن اسی دوران یہ خبر آئی کہ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار ہال میں آئے، انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے کان میں کوئی بات کہی اور باہر نکل گئے۔ جیسے ہی وہ ہال سے نکلے، تو محسن نقوی، جو بالکل ساتھ کھڑے تھے، فوراً ان کے پیچھے گئے ، صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اچانک کوئی نہ کوئی گڑ بڑ پیدا ہوئی ہے ۔ سب سے پہلا اعتراض ایرانی وفد کا یہ تھا کہ انہیں پہلے سے یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ یہاں مشترکہ فوٹو سیشن رکھا گیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ کسی بھی صورت امریکیوں کے ساتھ ایک ہی تصویر میں کھڑے دکھنا نہیں چاہتے۔
.@VP: "I think that @POTUS and the United States of America have done more to stop the conflict in Lebanon than any government anywhere in the world over the last few months, and we're going to keep on working towards it."
"What today really represents is the beginning of a… pic.twitter.com/GCoevmJORl
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 21, 2026
دوسرا اعتراض ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سوشل میڈیا پر ایک دھمکی آمیز وارننگ جاری کر دی۔ ایرانی وفد کا یہ اعتراض بالکل واضح تھا کہ جب یہاں ایک باقاعدہ مذاکراتی عمل چل رہا ہے، تو پھر اس قسم کی ٹویٹس اور دھمکیوں کی کیا ضرورت تھی؟ اسی ناراضگی کی وجہ سے ایرانی وفد نے صاف کہہ دیا کہ وہ امریکیوں کے ساتھ کوئی تصویر نہیں کھنچوائیں گے۔
جے ڈی وینس کے دلچسپ ریمارکس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قربت
اسی دوران جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حوالے سے انتہائی دلچسپ اور لائٹر نوٹ پر کمنٹ کیا جس سے پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ جے ڈی وینس نے کہا: “میں بھارت اور پاکستان میں دو لوگوں کو جانتا ہوں جو میرے بہت قریب ہیں اور میرا ان سے بڑا رابطہ رہتا ہے؛ ایک میری بیوی ہے جس کا تعلق بھارت سے ہے، اور دوسرے فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔”
مشترکہ اعلامیے پر رات گئے تک کام اور محسن نقوی کی انتھک محنت
اندرونی طور پر مشترکہ اعلامیے کی تیاری پر کام شروع ہو چکا تھا، جس میں چاروں ممالک کے دفتر خارجہ کے ماہرین ایک ایک لفظ، ایک ایک جملے اور زبان کی باریکیوں کو بیٹھ کر فائنل کر رہے تھے۔ ایک ہال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، محسن نقوی اور دیگر پاکستانی وفد کے اراکین قطری وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر حتمی مشاورت کر رہے تھے۔
پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی اور ٹیکنیکل کمیٹیوں کا قیام
بالآخر رات کے دو بجے مسودے کو حتمی شکل دی گئی اور یہ طے پایا کہ پاکستان اور قطر کے دفتر خارجہ مشترکہ طور پر سوئٹزرلینڈ کے وقت کے مطابق رات تین بجے (اور پاکستانی وقت کے مطابق صبح چھ بجے) اس مشترکہ اعلامیہ کو جاری کریں گے۔ اس مشترکہ اعلامیہ کے تحت جو سب سے بڑی کامیابی سامنے آئی، وہ یہ تھی کہ دونوں ممالک (ایران اور امریکا) کے درمیان ‘ورکنگ گروپس’ اور ‘ٹیکنیکل کمیٹیز’ قائم رکھنے اور مذاکراتی عمل کو مسلسل آگے بڑھانے پر اتفاق ہو گیا۔ دونوں ممالک کی ٹیکنیکل کمیٹیاں سوئٹزرلینڈ کے اندر ہی موجود رہیں گی اور اس سلسلے کو آگے لے کر چلیں گی۔

اس کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے تاکہ اگر مستقبل میں مذاکرات کے دوران کسی قسم کی رکاوٹیں آئیں، تو یہ کمیٹی اپنا ثالثی کا کردار ادا کرکے ان رکاوٹوں کو دور کر سکے۔ وہ تمام قوتیں، خاص طور پر بھارت، اسرائیل اور دیگر چند ممالک جو یہ چاہتے تھے کہ یہ مذاکراتی عمل کسی طرح ناکام ہو جائے اور پاکستان سے اس کا کریڈٹ چھین لیا جائے، انہیں بری طرح منہ کی کھانی پڑی ہے کیونکہ پاکستان کی میزبانی میں مذاکراتی عمل کامیابی سے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
اختتامی اقدامات اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ریمارکس
آخر میں، جب مسودہ رات گئے مکمل ہو گیا، تو ہال میں صرف چند پاکستانی صحافی رہ گئے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جاتے جاتے وہاں موجود صحافیوں (بشمول منصور علی خان، وسیم بادامی اور انس ملک) سے مصافحہ کیا اور کہا “اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں کامیابی نصیب ہوئی ہے، اور یہ سب صرف اور صرف اللہ کی ذات کی وجہ سے ہے، وہی کرنے والا ہے۔” اس عظیم کامیابی پر انہیں مبارکباد بھی پیش کی گئی کیونکہ اس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت کو برقرار رکھا۔
