ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی برادری کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ عبوری معاہدہ ایرانی عوام کی بڑی کامیابی ہے، جس کے تحت ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر جلد ایران کو واپس مل جائیں گے جبکہ باقی منجمد اثاثوں کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہی ہے کہ ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، ان کے بقول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی ہمیشہ واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور ایران آج بھی اسی پالیسی پر قائم ہے۔
ایرانی صدر نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں صرف ملکی ضروریات اور اعلان کردہ پالیسیوں کے مطابق جاری رہیں گی اور ان کا مقصد پرامن مقاصد کا حصول ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے اور اسی ہفتے ملاقات کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکا اور ایران کشیدگی کم کرنے پر متفق، حملے روکنے اور مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ
رپورٹس کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات متوقع ہے، جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تمام شعبوں پر تکنیکی مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کریں گے تاکہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنائی جا سکے۔
