پاکستان نے کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر افغان ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیساتھ سخت احتجاجی مراسلہ دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق گزشتہ شب افغان ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ بلا کر کراچی دہشت گرد حملے پر سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) دیا گیا۔ اسی نوعیت کا احتجاجی مراسلہ پاکستان کے افغانستان میں سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کے حکام کے حوالے کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد گزشتہ شب افغانستان کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں اس واقعے پر پاکستان کی جانب سے سخت احتجاجی مراسلہ ( ڈیمارش) دیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ احتجاجی مراسلے اس حقیقت کی روشنی میں جاری کیے گئے کہ کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں افغان شہری ملوث تھے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
واضح رہے کہ پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا، بروقت جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے جبکہ رینجرز کے 3 جوان شہید ہوئے۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز کی افغان صوبوں پکتیا ، پکتیکا اور کنڑ میں کارروائیاں ، 29 دہشتگرد ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق 27 جون کو کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے ایک کیمپ پر بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے خوارج نے دہشت گردانہ حملہ کیا تھا، دہشت گردوں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکا کرنے کے بعد سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔
رینجرز کے جوانوں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا، کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی افغان دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
