ایران کے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں امریکہ نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا۔ جواب میں پاسداران نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران پر ایک بار پھر حملہ کر دیا ہے، جس کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیرک میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حملے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملہ کیا گیا ہے۔
امریکا نے مفاہمتی یادداشت کیخلاف ورزی کی، جواب فوری اور فیصلہ کن ہو گا، ایران
سینٹکام کے مطابق ایرانی فورسز نے پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر کو ڈرون سے نشانہ بنایا، جو آبنائے ہرمز کے قریب تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر گزر رہا تھا۔
سینٹکام نے بتایا کہ حملے کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کی فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا۔
سینٹرل کمانڈ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 27 جون کو یہ کارروائیاں کی گئیں۔
دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ بحرین، کویت اور عراق میں حملے کے پیش نظر غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
