کراچی: شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4 حملہ آور مارے گئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے واقع کا نوٹس لے لیا۔
غیر ملکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا۔ جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑی سیکیورٹی ہیڈکوارٹر سے ٹکرا دی، جس کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ شروع ہوئی۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
نیوز ایجنسی کے مطابق کالعدم تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔ جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 حملہ آور مارے گئے۔ تاہم اس حوالے سے باظابطہ طور پر سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی۔
سیکیورٹی ذرائع نے ہم نیوز کو 4 دہشتگردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا۔ جبکہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ریپڈ رسپانس فورس اور پولیس کمانڈوز سمیت خصوصی دستے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات سے موصول ہونے والی اطلاعات کی روشنی میں شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رابطہ کر کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
پی ٹی آئی نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا
انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر ضروری اقدامات کرے اور حقائق جلد ازجلد سامنے لائے۔
وزیر داخلہ سندھ نے بھی ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کر کے واقعے کی تمام تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے تاکہ واقعے کی حقیقت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے، پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اورمزید معلومات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2024 میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب چینی انجینئرز کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میں غیر ملکی شہریوں کی اموات ہوئی تھیں۔ جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی۔
سال 24-2023 کے دوران پولیس موبائلوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور چیک پوسٹوں پر متعدد حملے اور فائرنگ کے واقعات ہوتے رہے ہیں جن میں کئی اہلکاروں شہید اور زخمی ہوئے۔
