وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا ۔
اس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور… pic.twitter.com/ReyC3bC0zR
— Prime Minister's Office (@PakPMO) July 21, 2026
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔
بلاول بھٹو کا کشمیریوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے ٹرتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ
یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
