وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی سے ہمیشہ پاکستان کو آئینی، قانونی اور معاشی نقصان پہنچا ، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ملک کو آئینی، معاشی اور سیاسی طور پر درست سمت میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ اسی میں پاکستان کی بہتری اور نجات ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایرانی صدر کا مختصر دورۂ پاکستان، خطے میں پاکستان کے کردار کے اعتراف اور دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے اہمیت کا حامل تھا، دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں پیش رفت پر بھی بات چیت ہوئی۔
دہشتگردی کا منبع افغانستان ، امریکا سمیت سب ہمیں استعمال کرکے چلے گئے ، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان لینڈ روٹ کے ذریعے تجارت کو فروغ دیا جائے گا، جس سے اشیائے ضروریہ، تیل اور گیس کی ترسیل آسان اور سستی ہو سکے گی۔ مستقبل میں تیل کی پائپ لائن بچھانے سمیت متعدد منصوبوں پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، پاک ایران تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ایرانی قیادت و عوام پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن قائم ہونے سے تجارت اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صوبے کے پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کے ذریعے خوشحالی آئے گی۔ بلوچستان کے عوام جانتے ہیں کہ تجارت کے فروغ سے ان کا معاشی مستقبل روشن ہو گا۔
پاکستان امن چاہتا ہے، بھارت اب دوبارہ حملے کی جرات نہیں کرے گا، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت کا موجودہ مقام گزشتہ 78 برس کی تاریخ میں منفرد ہے اور پاکستان امن پسند ملک کے طور پر عالمی سطح پر ابھر رہا ہے۔ دو سال پہلے پاکستان کا نام دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جاتا تھا، لیکن آج پاکستان کو امن کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک میں ہائبرڈ نظام چلنا چاہیے کیونکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی سے ہمیشہ پاکستان کو آئینی، قانونی اور معاشی نقصان پہنچا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت اور افغانستان میں پاکستان کی حالیہ پیش رفت پر صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔
