نئی دہلی، بھارتی سپریم کورٹ نے بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کی ممبئی میں واقع رہائش گاہ ’’منت‘‘ کی تزئین و آرائش کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کرتے ہوئے اداکار کو قانونی ریلیف دے دیا۔
عدالت نے سماعت کے دوران درخواست گزار کی نیت پر بھی سوال اٹھائے اورواضح کیا کہ قانون کے مطابق ہرشہری کو اپنی نجی رہائش گاہ کی تعمیر، مرمت یا تزئین و آرائش کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔
یہ درخواست ممبئی کے ایک رہائشی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں شاہ رخ خان اور ان کی اہلیہ گوری خان کے باندرہ میں واقع سمندر کنارے بنگلے ’’منت‘‘ کی تزئین و آرائش کے لیے دی گئی سرکاری منظوری کو چیلنج کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ منصوبے کے لیے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سے ضروری منظوری نہیں لی گئی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل شعیب عالم نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملہ دوبارہ نیشنل گرین ٹریبونل کو بھجوایا جائے، تاہم سپریم کورٹ نے یہ درخواست بھی مسترد کر دی۔
عامر خان کا پورے خاندان کو ایک جگہ رکھنے کیلئے بڑا رہائشی منصوبہ
چیف جسٹس سوریا کانت نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک نجی رہائش گاہ ہے اور اگر اس کے مالکان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس میں تبدیلیاں یا تزئین و آرائش کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس مقدمے میں کسی شخص کی شہرت یا مقبولیت کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا بلکہ فیصلہ صرف قانون کے مطابق ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل نیشنل گرین ٹریبونل بھی یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دے چکا ہے کہ منصوبہ ماحولیاتی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے اور تمام ضروری قانونی منظوری حاصل کی جا چکی ہے۔
