نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوئی بلکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکراتی میز پر لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا گیا۔
العربیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اپنے ایٹمی ذخیرے کو کم درجے تک تبدیل کرنے پر آمادہ تھا، ایران پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم نہیں کی جا رہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ 18 جون کو اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر حتمی دستخط کیے گئے، سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات اس سے پہلے بھی شروع ہو سکتے تھے، تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث جنیوا میں طے شدہ مذاکراتی عمل متاثر ہوا اور تاخیر کا شکار ہو گیا۔
لبنان میں اسرائیل کے حملے اشتعال انگیز،انہیں رکنا چاہیے،اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے سفارتی کوششوں کو دھچکا پہنچا، تاہم سخت محنت اور مفاہمتی کوششوں کے نتیجے میں تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے۔ فریقین نے مفاہمتی یادداشت کو قبول کر لیا ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے پیش رفت جاری ہے، باقی مذاکراتی عمل کو 30 روز کے اندر مکمل کیا جانا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی دستاویز بڑی عرق ریزی سے تیار کی گئی ، آئندہ مرحلے میں پابندیوں، ایرانی جوہری پروگرام اور لبنان کی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پورے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے ، مذاکرات حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے ہو رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 60 روز کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی جائے گی ، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر جہاز رانی کے لیے بحال کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بغیر کسی فیس یا ٹول کے آمد و رفت جاری رہنی چاہیے،امن کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ، توانائی کی عالمی قیمتوں میں کمی اس کی ایک مثال ہے۔
