وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو ہائی اینڈ موبائل فونز کی خریداری پر نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے مہنگے درآمدی موبائل فونز کی قیمت میں فی ڈیوائس تقریباً 14 ہزار روپے تک کمی آسکتی ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے فنانس بل 2026 کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ درآمدی موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس ڈھانچہ متوازن، منصفانہ اور حکومتی آمدن کے لیے مؤثر ثابت ہورہا ہے، اس لیے شرحوں کے موجودہ نظام میں مزید تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مہنگے یا پریمیئم درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی میں وسیع پیمانے پر کمی سے زیادہ فائدہ معاشرے کے خوشحال طبقے کو ہوگا جبکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اضافی ریلیف پر غور کیا جائے تو اسے صرف 31 سے 200 ڈالر مالیت کے ابتدائی درجے کے موبائل فونز تک محدود رکھا جانا چاہیے تاکہ کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والے صارفین مستفید ہوسکیں۔
راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر اسمبل کیے جاتے ہیں جبکہ صرف 5 فیصد فونز درآمد کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی اسمبلنگ صنعت ہی عوام کو نسبتاً سستے اسمارٹ فونز کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے، لہٰذا CKD اور SKD اسکیموں کے تحت فراہم کی جانے والی مراعات برقرار رہنی چاہئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران موبائل فونز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ درآمد شدہ موبائل فونز کی تعداد 6 لاکھ 40 ہزار سے بڑھ کر 10 لاکھ 40 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جو 61 فیصد اضافہ ہے۔ اسی عرصے میں درآمدی مالیت میں 137 فیصد اضافہ ہوا جبکہ موبائل فونز پر وصول کیے جانے والے ڈیوٹی اور ٹیکسز 136 فیصد بڑھ کر 36.9 ارب روپے تک جا پہنچے۔
ایف بی آر کے مطابق 500 ڈالر سے زائد مالیت کے فلیگ شپ اسمارٹ فونز درآمدی یونٹس کا صرف 16 فیصد ہیں، تاہم یہی فونز مجموعی درآمدی ٹیکس آمدن کا 58 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ اس شعبے سے 36.9 ارب روپے میں سے 21.6 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگے فونز پر ڈیوٹی میں مزید کمی کا فائدہ بنیادی طور پر اعلیٰ آمدنی والے صارفین کو ہوگا جبکہ حکومتی ریونیو متاثر ہوسکتا ہے۔
