اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر کل منگل کو پاکستان آ رہے ہیں۔ ایرانی صدر کے ہمراہ وزراء اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان پہنچے گا۔
ایرانی صدر اپنے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیر اعظم بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔
ترجمان کے مطابق صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ مذاکرات میں تجارت، توانائی، بارڈر سیکیورٹی اور علاقائی روابط کو فروغ دینے پر بات ہو گی۔
دورے کے دوران “اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” کے بعد کے سفارتی امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق ایرانی صدر کا دورہ دونوں ممالک کے تاریخی، ثقافتی تعلقات اور خطے میں امن کے عزم کا مظہر ہے۔
واضح رہے کہ اس دورے کا اعلان سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔
مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا جبکہ حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ بھی منظور کیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ ایران امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات فوری شروع ہوں گے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ لبنان جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ایٹمی پروگرام اور پابندیوں سے متعلق ورکنگ گروپس تشکیل دیئے جانے پر اتفاق ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی اجلاس، بجٹ بحث کے دوران ہنگامہ آرائی، بیان پر تحقیقات کا حکم
یاد رہے کہ مذاکرات سے ایک روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ مخالف فریق بھی ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
