اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان آ رہے ہیں۔ ایرانی صدر کے ہمراہ وزراء اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی اسلام آباد پہنچے گا۔
ایرانی صدر اپنے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیر اعظم بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔
ترجمان کے مطابق صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ مذاکرات میں تجارت، توانائی، بارڈر سیکیورٹی اور علاقائی روابط کو فروغ دینے پر بات ہو گی۔
منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر دستخط ہو گئے ، ایرانی اسپیکر کی تصدیق
دورے کے دوران “اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” کے بعد کے سفارتی امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق ایرانی صدر کا دورہ دونوں ممالک کے تاریخی، ثقافتی تعلقات اور خطے میں امن کے عزم کا مظہر ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے دورے سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاری مذاکرات کی کامیابی پہلے سے طے شدہ وعدوں کی مکمل پاسداری اور ان پر درست عملدرآمد سے مشروط ہے، اور حقیقی پیش رفت کا اندازہ بیانات کے بجائے عملی اقدامات سے لگایا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کا مؤثر ثابت ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ تمام فریق طے شدہ ذمہ داریوں کی مکمل پابندی کریں۔
مسعود پزشکیان نے زور دیا کہ سفارتی پیش رفت صرف “قبول شدہ ذمہ داریوں پر عملی طور پر عمل کرنے” سے ہی ظاہر ہو سکتی ہے اور خبردار کیا کہ طے شدہ شرائط سے کسی بھی قسم کی انحرافی کوشش مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متفقہ فریم ورک سے ہٹ کر دیے گئے بیانات مذاکرات کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوں گے۔
The effectiveness of the talks depends on full commitment to the agreed obligations and their precise implementation.Progress on this path will be measured by practical adherence to accepted responsibilities.Statements outside the agreed text do not help advance the negotiations.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) June 23, 2026
واضح رہے کہ اس دورے کا اعلان سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔
مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا جبکہ حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ بھی منظور کیا گیا۔
ایران کو 21اگست تک تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت
مزید کہا گیا کہ ایران امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات فوری شروع ہوں گے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ لبنان جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ایٹمی پروگرام اور پابندیوں سے متعلق ورکنگ گروپس تشکیل دیئے جانے پر اتفاق ہوا۔
یاد رہے کہ مذاکرات سے ایک روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ مخالف فریق بھی ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
