واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے میں فی الحال محتاط انداز اختیار کر رہا ہے اور فوجی کارروائی کے بجائے تہران پر معاشی دباؤ کو ترجیح دی جارہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور تہران کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے، حتیٰ کہ اپنی فوج کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی ایران کے پاس خاطر خواہ رقم موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ اس وقت صرف محدود سطح پر مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشمکش کو انہوں نے شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جارہا ہے اور فی الحال امریکی حکمت عملی فوجی کارروائی کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا سے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی تک بات چیت نہیں ہو گی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلنے پر فتح کا اعلان کرنے والے تھے، وال اسٹریٹ جرنل کا انکشاف
عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا تھا کہ تہران اور مسقط کے درمیان ایک معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، تاہم معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔
