سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے اور اپنے صاحبزادے راول میمن کے خلاف میر رضا قتل کیس کو لیکر سوشل میڈیا پر مبینہ “جھوٹے، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی الزامات” کی مہم کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کرلیا ہے۔
شرجیل انعام میمن کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے دائر درخواست میں نامعلوم افراد کو فریق بنایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس چلا رہے ہیں۔ درخواست میں ان افراد پر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی مواد تیار اور نشر کرنے اور شرجیل میمن اور ان کے بیٹے کو ہراساں کرنے اور انکی ساکھ متاثر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد کی شناخت معلوم نہیں، تاہم ان اکاؤنٹس کا تعلق جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام پر رضامند نہیں، مقتول کے والد
درخواست کے ساتھ 4 فیس بک اکاؤنٹس اور صفحات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے اسکرین شاٹس بھی منسلک کیے گئے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شرجیل میمن اور ان کے صاحبزادے کے خلاف پوسٹس، ویڈیوز اور بیانات 9 اگست سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنا شروع ہوئے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان پوسٹس میں الزامات لگائے گئے ہیں کہ گلستانِ جوہر کراچی میں واقع وہ گیسٹ ہاؤس، جہاں مبینہ طور پر میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، شرجیل میمن کی ملکیت ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ میر رضا قیل کے فوراً بعد شرجیل میمن کے صاحبزادے راول میمن کے لندن روانہ ہونے اور وہاں ایک محافظ ہمراہ رکھنے کے الزامات لگائے گئے۔
درخواست کے مطابق بعض سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ کیس کی تحقیقات کرنے والے میڈیکل بورڈ کو ’’راتوں رات‘‘ تبدیل کردیا گیا، جبکہ سینئر صوبائی وزیر اور ان کی سیاسی جماعت پر واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو تحفظ دینے اور پولیس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ متعدد سوشل میڈیا صفحات پر تقریباً ایک ہی وقت میں ایک جیسی زبان اور الزامات سامنے آئے، بالخصوص گیسٹ ہاؤس کی ملکیت اور راول میمن کے مبینہ طور پر لندن روانہ ہونے سے متعلق دعوے مختلف صفحات پر یکساں انداز میں نشر کیے گئے۔
میر رضا علی کیس: دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد اور گولی لگنے کے اہم شواہد سامنے آگئے
شرجیل انعام میمن نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پیچھے موجود افراد اپنی شناخت چھپانے کے لیے جعلی شناختیں، بوٹ نیٹ ورکس یا پراکسی ہینڈلرز استعمال کر سکتے ہیں۔
درخواست میں این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کرکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد کی شناخت کی جائے۔ اس مقصد کے لیے آئی پی لاگز، ڈیوائس اور سم رجسٹریشن کا ڈیٹا اور دیگر متعلقہ صارف معلومات کا جائزہ لینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
