وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے تحصیل غازی کو وفاق میں شامل کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی خبریں اور جعلی نوٹیفکیشن پھیلانا بعض عناصر کا وطیرہ بن چکا ہے۔
ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ تحصیل غازی کو خیبرپختونخوا سے نکال کر وفاق میں شامل کرنے کے حوالے سے چلایا جانے والا پروپیگنڈا سراسر بے بنیاد ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صوبے کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرنا اور آئینی ترمیم کرنا ضروری ہوتا ہے، محض ایک جعلی نوٹیفکیشن کے ذریعے صوبے کے کسی علاقے کی حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان @ShafiJanPTI نے تحصیل غازی کے حوالے سے پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے اور جعلی نوٹیفکیشن کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے بنیاد اور من گھڑت مہم ہے۔
کسی بھی صوبے کی جغرافیائی حیثیت آئینی ترمیم کے بغیر تبدیل نہیں کی جا سکتی، لہٰذا… pic.twitter.com/aZ3JLyZyQM
— Government of KP (@GovernmentKP) August 9, 2026
وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحصیل غازی خیبرپختونخوا کا حصہ ہے اور کسی جعلی نوٹیفکیشن یا من گھڑت خبر کے ذریعے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی افواہوں اور جعلی دستاویزات پر یقین نہ کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ عوام نے موجودہ حکومت کو جو مینڈیٹ دیا ہے، اس کا تحفظ ہماری آئینی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔ عوام کے مینڈیٹ اور صوبے کی جغرافیائی وحدت کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص یا عنصر نے جعلی نوٹیفکیشن تیار یا من گھڑت خبر پھیلائی، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضرور کی جائے گی۔ صوبے کے مفادات اور عوام کے مینڈیٹ کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی ورکرعصمت رضا شاہجہان نے کہا ہے کہ غازی خیبرپختونخوا کا علاقہ ہے جبکہ تربیلا ڈیم صوبے کے خالص پن بجلی منافع کا بڑا ذریعہ ہے۔
ان کے مطابق تربیلا کی موجودہ پیداواری صلاحیت 4 ہزار 888 میگاواٹ ہے،غازی اور تربیلا ڈیم کو پنجاب کے زیرِ تسلط لانا خیبرپختونخوا کو اپنی سرزمین، آبی ذخیرے، بجلی کی پیداوار اور خالص پن بجلی منافع کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور پشتون قوم پرست قوتوں پر زور دیا کہ صوبے کی سرزمین، قدرتی و معدنی وسائل اور حقوق کے خلاف کسی بھی کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف بیانات کافی نہیں، عملی اقدام ضروری ہے۔
