کراچی میں مبینہ طور پر قتل کیے گئے نوجوان میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے کیس پر جوڈیشل کمیشن کا قیام نہیں چاہتے بلکہ انہیں نئی بننے والی تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد ہے۔
مقتول کے والد حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ اور مئیر کراچی کل آئے تھے اور جوڈیشل کمیشن بنانے کو کہا تھا مگر ہم نے 20 منٹ بعد ہی وزیر داخلہ، مئیر کراچی، اے آئی جی، اور ایس ایس پی کو اپنی رائے کے بارے آگاہ کر دیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہیں عامر فاروقی کی سربراہی میں بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد ہے۔
ڈی آئی جی عامر فاروقی اچھی شہرت کے افسر ہیں، “چار پانچ دن تک ان [تحقیقاتی کمیٹی] کا رزلٹ سامنے آ جائیگا، اس کے بعد پھر ہم کہیں اور اپروچ کریں گے۔”
یہ بھی پڑھیں: نوجوان تاجر میر رضا کے اغوا کی ایف آئی آر قتل کے مقدمے میں تبدیل
انہوں نے عامر فاروقی کیساتھ ٹیکینیکل بنیادوں پر انوسٹیگیشن کرنے والی ٹیم کو بھی شامل کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے سوال کیا کہ میرے بیٹے کا بزنس پارٹنر بھی 10 دن سے غائب ہے، کیا پولیس نے اس سے بھی کوئی تفتیش کی؟
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گلستان جوہر میں قائم گیسٹ ہائوس کے ملازمین سے کیا تحقیقات ہوئیں ، ہمیں نہیں بتایا جارہا ۔
گیسٹ ہائوس کی سی سی ٹی وی اب تک سامنے نہیں آئی، گرفتار ہونے والے اور فرار ہونے والے افراد کے بارے میں بھی نہیں بتایا گیا۔ “گیسٹ ہاؤس کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آ رہی۔”
انہوں نے شکوہ کیا کہ اس کیس کے حوالے سے پولیس میڈیا پر وہ بریفنگ دیتی ہے، جس کا تذکرہ ہم سے نہیں کیا جاتا۔ “11 دنوں سے کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس نہیں آیا، ہم والدین کی بات نہیں سنی جو مسلسل کہہ رہے تھے کہ یہ قتل ہے۔”
نئی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
دوسری جانب میر رضا قتل کیس پر بنی نئی تحقیقاتی ٹیم کا اجلاس ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹگیشنز سندھ عامر فاروقی کی سربراہی میں آج ہوگا۔ذ
ذرائع کے مطابق اس دوران نئے سرے سے کیس فائل کا مکمل طور پر جائزہ لیا جائے گا اور سربراہ سمیت اجلاس کے تمام ممبران کو مکمل کیس بریفنگ فائل دی جائے گی۔
اس کے علاوہ اب تک ہونے والی تمام تر تحقیقات پوسٹم مارٹم رپورٹ سے آگاہ کیا جائے گا جبکہ اجلاس کے بعد تحقیقاتی ٹیم ممکنہ طور پر والدین سے بھی ملاقات کرے گی۔
نئی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے کرائم سین کا بھی مکمل معائنہ کیا جائے گا، پولیس کی جانب سے کرائم سین کو مکمل طور پر ٹیپنگ کرکے سیل کردیا گیا ہے اور یہاں پولیس کی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ کراچی کے نوجوان تاجر اور کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ 28 جولائی 2026ء کو سامنے آیا، جب وہ گھر سے لاپتہ ہوئے اور اگلے روز گلستانِ جوہر کے قریب سے ان کی لاش برآمد ہوئی۔
ابتدائی طور پر کیس کو کروڑوں روپے کے مالی خسارے، قرض اور لین دین کے معاملات سے جوڑ کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اور ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے لائی جس میں ادائیگیوں کا ذکر کیا جا رہا تھا۔
تاہم خاندان کے شدید احتجاج اور تفتیش پر عدم اعتماد کے بعد عدالت کے حکم پر طارق روڈ قبرستان میں میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں میر رضا کی قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق مقتول کو پیچھے (کمر) سے گولی لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے، جس سے اہل خانہ کا قتل کا شک درست ثابت ہوا۔
