برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پارٹی کے اندر تیزی سے کم ہوتی مقبولیت کے باعث عہدے سے مستعفی ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم اسٹارمر کل پیر کو اپنے عہدے سے استعفا دے دیں گے، کیئراسٹارمر نئے پارٹی لیڈر کے انتخاب کا روڈ میپ بھی دیں گے۔
وزیراعظم اسٹارمر پر لیبر پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے مسلسل دباؤ ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے کا ٹائم ٹیبل دیں، یہ دباؤ اینڈی برنہم کے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچنے سے بڑھ گیا ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر کو معلوم ہو چکا ہے کہ لیبر ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت اینڈی برنہم کے ساتھ ہے۔
ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا کہ اینڈی برنہم وزیرِاعظم بنے تو شبانہ محمود کابینہ میں برقرار رہیں گی، شبانہ محمود امیگریشن اصلاحات کا کام جاری رکھنے کی خواہاں ہیں، غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے شہریت کے قواعد مزید سخت کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے ایپسٹین کیس کے متاثرین سے معافی مانگ لی
ذرائع کے مطابق اینڈی برنہم کو 300 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے جس کے باعث ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ وہ بغیر کسی قیادت کے چناؤ کے باقاعدہ مقابلے کے پارٹی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔
