جدید علاج کا طریقہ کار اب گھٹنوں کے درد میں مبتلا لاکھوں مریضوں کو صرف انجیکشن کے ذریعے کم از کم 12 ماہ تک درد سے نجات فراہم کرنے کی امید دلاتا ہے۔
اس علاج میں استعمال ہونے والا طریقہ کار جسے جینیکولر آرٹری ایمبولائزیشن (GAE) کہتے ہیں، ایک معمولی سا آپریشن ہے جس میں جوڑوں کے درد کے مریضوں کے گھٹنوں کے گرد غیر معمولی خون کی رگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آسٹیوآرتھرائٹس سے متاثرہ گھٹنوں میں جوڑ کے گرد غیر معمولی رگیں بن جاتی ہیں جو سوزش اور درد کا باعث بنتی ہیں۔ GAE کے دوران ریڈیولوجسٹ ایک باریک کیتھیٹر کو براہ راست متاثرہ رگ تک لے جا کر اسے بلاک کر دیتا ہے جس سے بغیر کسی بڑی سرجری کے سوزش اور درد میں آرام آتا ہے۔
آسٹیوآرتھرائٹس جو ارتھرائٹس کی سب سے عام قسم ہے مریض کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق آسٹیوآرتھرائٹس دنیا بھر میں 36 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق GAE ٹرائل میں 114 خواتین اور 80 مرد شامل تھے جن کی اوسط عمر 69 سال تھی، اور یہ سب کم از کم 3 ماہ کے باقاعدہ علاج، بشمول فزیوتھراپی، سوزش کش ادویات ، اور جوڑوں کے انجیکشنز سے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر سکے تھے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ علاج کے بعد درد میں تیزی سے کمی آئی اور مجموعی علامات میں بھی بہتری کا سلسلہ دیکھا گیا۔ 12 ماہ کے فالو اپ پر 80% شرکاء نے طبی لحاظ سے نمایاں بہتری دیکھی اور صرف 6.7 فیصد افراد میں معمولی ردعمل دیکھنے کو ملا۔
ٹرائل کے سربراہ ڈاکٹر فلیکنسٹائن نے کہا، “ہمارا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ تیزی سے جذب ہونے والے جیلیٹن پر مبنی مائیکرو اسفیئرز کا استعمال کرتے ہوئے GAE ایک محفوظ اور کم تکلیف سے طریقہ ہے جو آسٹیوآرتھرائٹس سے متعلق گھٹنے کی علامات والے مریضوں کو کم از کم 12 ماہ تک اہم درد سے نجات اور فعال بہتری فراہم کرتی ہے۔”
ہارٹ اٹیک و فالج کے 99 فیصد کیسز کن 4 خطرناک عوامل سے جڑے ہیں؟تحقیق سامنے آگئی
انہوں نے مزید کہا، “متاثر رگوں کو بلاک کر کے ہم خوں کی رگوں کی ساخت کو معمول پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ہم نے گھٹنے کی اعصابی ساخت کو بھی متوازن کیا ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کے مزید تحقیقت میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے اتے ہیں تو یہ نیا طریقہ کار مستقبل میں گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری اور بار بار لگنے والے روایتی انجیکشن کی ضرورت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
