امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمت میں ایک فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسپاٹ گولڈ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,316 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ روز اس میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ سے مثبت خبروں کے باعث تیل کی قیمتیں نیچے آئیں، جس سے مہنگائی کے خدشات کم ہوئے اور سرمایہ کاروں نے دوبارہ سونے کی طرف رخ کیا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے کی شرائط پر سخت مؤقف کے باوجود دونوں ممالک نے 14 نکاتی عبوری معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے تاکہ مستقل امن معاہدے پر بات چیت جاری رکھی جا سکے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی نے افراطِ زر کے دباؤ کو کم کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں تیزی محدود رہ سکتی ہے، کیونکہ سونا منافع نہیں دیتا۔
ادھر فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ رواں سال شرح سود میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد مارکیٹ میں دسمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 85 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا: چاندی 1.8 فیصد بڑھ کر 69.18 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,757 ڈالر، اور پیلیڈیم 1.3 فیصد بڑھ کر 1,329 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
