لاہور: اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری ضمانت میں 28 جولائی تک توسیع کر دی گئی۔
ڈان ڈاٹ کام کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت نے مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت پر سماعت کی۔ ثاقب چدھڑ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے تفتیشی افسر نے تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی عبوری ضمانت میں 28 جولائی تک توسیع کر دی۔ اور تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر تحقیقات سے متعلق پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے گزشتہ ماہ اداکارہ مومنہ اقبال کی شکایت پر ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ جن میں سائبر ہراسگی، غیر مجاز رسائی، بلیک میلنگ، مجرمانہ دھمکیاں اور دیگر الزامات شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق مومنہ اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور دیگر افراد نے ان کے خلاف سائبر ہراسگی، تعاقب، بلیک میلنگ، بدنامی، غیر قانونی نگرانی اور دھمکیوں کی منظم مہم چلائی۔
شکایت میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ مومنہ اقبال کی جانب سے ثاقب چدھڑ کی شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ نجی معلومات تک رسائی کی کوشش کی گئی، پرتشدد مواد بھیجا گیا اور نجی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم کراچی والے تمغوں کے حقدار ہیں؛ عائشہ عمر کا شہر قائد بدترین شہروں میں شامل ہونے پر ردعمل
اداکارہ کے مطابق ان کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلائی گئی۔ جبکہ حالیہ عرصے میں ان کی آئندہ شادی کو سبوتاژ کرنے اور نجی مواد منظر عام پر لانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
