بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں مون سون کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع میں منگل کے روز ہونے والی شدید بارش اور گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے۔ ان حادثات میں سب سے زیادہ متاثر ضلع گریڈیہ رہا، جہاں 10 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
بھارت میں طوفانی بارشیں، 37 افراد ہلاک، درجنوں مکانات تباہ
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت ان کسانوں اور زرعی مزدوروں کی تھی جو بارش کے باوجود کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ اچانک گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے سے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا، جبکہ مختلف مقامات پر کم از کم 7 افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
ریاستی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جبکہ ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد یقینی بنائی جائے۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جھارکھنڈ میں آئندہ چند روز تک موسلا دھار بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے مزید امکانات موجود ہیں۔
شہریوں، خصوصاً کسانوں اور کھلے میدانوں میں کام کرنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔
بھارتی ریاست سکم میں بارشیں اور سیلاب، 23 فوجی لاپتہ، الرٹ جاری
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کے موسم میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے، جس کے باعث ہر سال درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے رواں سال جنوری میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران ریاست جھارکھنڈ میں آسمانی بجلی اور گرج چمک سے منسلک مختلف واقعات میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جو اس قدرتی آفت کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی مون سون بارشوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔ شمال مشرقی ریاست آسام میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث تقریباً 90 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ جنوبی ریاست کیرالہ میں موسلادھار بارشوں سے کم از کم 15 افراد ہلاک اور ہزاروں شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
شمالی ترکیہ میں موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی
متعدد علاقوں میں سڑکیں، پل اور بنیادی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ امدادی ادارے متاثرین کی بحالی اور محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے سرگرم ہیں۔
