پاکستان اور امریکا نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں ،سیکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان چوتھا انسدادِ دہشت گردی مذاکراتی اجلاس 4 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں، سیکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
The United States and Pakistan affirmed their joint resolve to confront terrorist organizations that endanger the safety of their citizens and the stability of the region, including ISIS-Khorasan (ISIS-K), al-Qa’ida (AQ), the Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP), and the Balochistan…
— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) August 5, 2026
مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری سفیر نبیل منیر نے کی، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی انسدادِ دہشت گردی کے امریکی کوآرڈی نیٹر سفیر گریگوری لوگرفو نے کی۔
امریکی محکمہ خارجہ اور وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیا، تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا اور سرحدی سیکیورٹی کو مؤثر بنانے سمیت دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات پر گفتگو کی۔
دونوں ممالک نے داعش خراسان (ISIS-K)، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے منسلک گروہوں سمیت ان تنظیموں کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا جو شہریوں کی سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
مذاکرات میں پاکستان اور امریکا نے انسدادِ دہشت گردی تعاون کو جاری رکھنے اور طویل المدتی امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق اموات میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں اموات 6 فیصد اضافے کے بعد 1139 تک پہنچ گئیں، جو 2013 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
🔈 PR No. 1️⃣9️⃣7️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement on the Fourth Round of Pakistan-U.S. Counterterrorism Dialogue
🔗⬇️ pic.twitter.com/bA1NJ8N9Bt
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
رپورٹ میں پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں بگاڑ کی وجوہات میں افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بڑھتی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے، جہاں ملک بھر کے 74 فیصد سے زائد حملے اور 67 فیصد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو پاکستان کا سب سے مہلک دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2025 میں اس کے حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا، ایران اور عمان کے درمیان عبوری معاہدہ قریب،جلد اہم اعلان متوقع
پاکستان اور امریکا نے واشنگٹن مذاکرات میں انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں مسلسل تعاون اور مشترکہ اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
