ایران نے کہا ہے کہ عمان سے متوقع معاہدے کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں، آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے جغرافیائی خصوصیات سے متعلق امور پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ معاہدے کا اعلامیہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگر تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہوئی تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کا اعلامیہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان اور قطر کے ساتھ بھی اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گی۔
.@IRIMFA_SPOX Esmaeil Baqaei about the possibility of the Foreign Minister or the Speaker of the Parliament traveling to Pakistan or Qatar at the end of this week, the Foreign Ministry spokesman said: “We have no plans to travel to these countries. Of course, Pakistan and Qatar… pic.twitter.com/lfSblAOKYQ
— Wladimir van Wilgenburg (@vvanwilgenburg) August 5, 2026
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ عمان سے ممکنہ بحری معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی ضمانت نہیں ، عمان سے متوقع معاہدے کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں، آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے، تاہم خطے کے ممالک کے درمیان رابطے اور تعاون سے جہاز رانی کے معاملات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ یا پارلیمنٹ کے اسپیکر کے رواں ہفتے کے اختتام پر پاکستان یا قطر کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور باہمی مشاورت و تبادلہ خیال جاری ہے۔
فوج سے مکمل رابطہ ہے ، سپریم لیڈر سے اختلافات اور مستعفی ہونے کی خبریں غلط ہیں ، ایرانی صدر
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان اور قطر کے دورے سے متعلق کوئی شیڈول موجود نہیں، تاہم علاقائی صورتحال کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری رکھے جا رہے ہیں۔
