پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کے تحت موجودہ اسمبلی کی مدت 3 اگست کو مکمل ہو جائے گی اور الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 27 جولائی سے انتخابات کو مزید آگے بڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
کشمیر کونسل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ جنگوں کے دوران بھی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) 1974 کے آئین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، اگر انتخابات ملتوی کیے گئے تو یہ خطے میں جمہوریت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر انتخابی شیڈول واپس لینے اور انتخابات مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے پرآزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 22(4) کے تحت قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات اسمبلی کی آئینی مدت کے اختتام سے قبل 60 روز کے اندر منعقد ہونا لازمی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے اپنے چیئرمین کو الیکشن کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کیں۔ 1985 کے مارشل لاء کے بعد سے لے کر آج تک آزاد کشمیر کے انتخابات کبھی ملتوی نہیں ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ ماحول میں انتخابات کا انعقاد مکمل طور پر ممکن ہے تو پھر وہ کون لوگ ہیں جو الیکشن کو ملتوی کروانا چاہتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں جاری حالیہ بحران اور عوامی مسائل پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کشمیر کے صدر نے کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے جہاں راستوں کی بندش کے باعث عوام تک اشیائے ضروریہ نہیں پہنچ پا رہی ہیں اور وہاں ایک بڑا انسانی و معاشی بحران جنم لے رہا ہے۔
انہوں نے حکومت اور مقتدر حلقوں سے پرزور درخواست کی کہ آزاد کشمیر کے بند راستے فوری طور پر کھولے جائیں اور شہریوں تک اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کی مشکلات کم ہو سکیں۔
ہم بطور اپوزیشن اس صورتحال میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ غلام قادر نے حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے حالیہ بیانات پر بھی سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مشعال ملک صرف شادی کی بنیاد پر کشمیری بنی ہیں اور انہیں سیاست کرنے کے بجائے اپنے خاوند کی رہائی کے لیے سنجیدہ جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں انتباہ کیا کہ مشعال ملک کی جانب سے ن لیگ کی قیادت اور رہنماؤں کے خلاف دیے جانے والے بیانات ناقابلِ برداشت ہیں اور انہیں اس قسم کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور مشتاق مہناس سمیت ن لیگ آزاد کشمیر کے دیگر سینیئر رہمنا بھی موجود تھے۔
